سردیوں میں جلد کی حفاظت کیسے کی جائے؟

اسلام آباد: سردیوں کا موسم جہاں کئی موسمی سوغاتیں لے کر آتا ہے وہاں خشک ہوائیں ہماری جلد کو بہت جلدی نقصان پہنچا جاتی ہیں۔ گرمیوں کی نسبت سردیوں میں جلد کی حفاظت کرنا کئی گنا زیادہ ضروری ہے، کیونکہ اس موسم میں نا صرف سرد ہوائیں بلکہ سردیوں کی دھوپ سینکنے کا شوق بھی جلد کو نقصان پہنچاتا ہے۔

سردی کے موسم میں خشک، تیز سرد ہوائیں ایک طرف جلد میں موجود قدرتی نمی کو ختم کرنے کا باعث بنتی ہیں تو دوسری طرف یہ جلد کو انتہائی خشک کر کے عمر سے پہلے جھریاں پیدا کرنے کا موجب بھی بنتی ہیں۔ مناسب احتیاط سے نا صرف اس موسم کی خوبصورتی کو بھی محسوس کیا جا سکتا ہے بلکہ جلد کو خوبصورت رکھنا بھی ممکن ہوتا ہے۔


مزید پڑھیں

ٹماٹر اور ایلوویرا سے اپنی جلد کو چمکتا دمکتا بنائیں


ذیل میں چند نکات دیے جا رہے ہیں جن سے جلد کو سردی اور خشکی سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

نیم گرم پانی کا استعمال:

گو کہ سردی کے موسم میں گرم پانی میں طویل غسل کرنا بہت اچھا لگتا ہے، تاہم اس حوالے سے یاد رکھنا چاہیے کہ زیادہ گرم پانی جلد کو زیادہ تیزی سے خشک کرتا ہے، اور اگر فوری طور پر جلد پر کوئی موئسچرائزنگ کریم نا لگائی جائے تو جلد پر کریکس پڑنے کا اندیشہ ہوتا ہے، اس لیے اس سے بچنے کے لیے کوشش کریں کہ نیم گرم پانی کو منہ دھونے اور نہانے کے لیے استعمال کیا جائے۔

پینے کی پانی کا زیادہ استعمال

سردیوں میں پیاس نہیں لگتی اور پسینہ بھی نہیں آتا، جس وجہ سے تقریبا ہر شخص پانی کم پیتا ہے، چونکہ پیاس کا احساس نہیں ہوتا تو پانی کی کمی سے جلد بے رونق ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ کوشش کرنی چاہیے کہ پانی کا استعمال ویسا ہی رکھا جائے جیسے گرمیوں میں عادت رہی ہو، پانی کا کم استعمال جہاں جلد کے لیے نقصان دہ ہے وہیں گردوں اور معدے کے لیے بھی مسائل کھڑے کرتا ہے۔ خشک موسم میں کوشش کریں کہ اگر پیاس نا لگے تو ایسے پھل اور سبزیاں کھائی جائیں جن میں پانی وافر مقدار میں پایا جاتا ہو، اس سلسلے میں کھیرا، گاجر اور مالٹا بہت معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔


مزید پڑھیں

پاکستانی سیاحتی مقامات اور کھانوں نے دنیا کی توجہ حاصل کر لی


جلد کی حفاظت کرنے والی کاسمیٹکس کا استعمال

سردیوں کے موسم میں کلینزنگ، موئسچرائزر اور گلیسرین وغیرہ کا مناسب استعمال بہت ضروری ہے۔ خشک جلد کے علاوہ آئلی جلد والوں کو بھی مناسب کلینزنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر سردیوں میں اپنی جلد صاف نہیں رکھیں گے تو پھنسیاں اور دانے نکلنے کا خدشہ بڑھ سکتا ہے، ایسے میں ضروری ہے کہ مناسب قسم کی مصنوعات سے اپنی جلد کی صفائی اور نمی کو برقرار رکھا جائے۔

اپنی جلد کو سورج کی تپش سے بچائیں

گرمیاں ہوں یا سردیاں، چہرے کو دھوپ سے بچانا ایک جتنا ضروری ہوتا ہے، اس سلسلے میں خیال کرنا چاہیے کہ بے شک سردیوں میں دھوپ میں بیٹھنا اچھا لگتا ہے لیکن بالائے بنفشی شعاعیں دونوں موسموں میں جلد کو ایک سا نقصان پہنچاتی ہیں، اس لیے ہر ممکن کوشش کریں کہ دھوپ میں سن بلاک لگائے بغیر نہ بیٹھا جائے۔ بالائے بنفشی شعاعوں سے نا صرف چہرے بلکہ ہاتھوں کو بھی بچانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

جلد کو رگڑنے کے عمل سے بچائیں

سردیوں میں کوشش کیا کریں کہ ایسی مصنوعات جن میں اسکرب یا سخت مواد موجود ہو، انہیں چہرے پر  نہ رگڑا جائے۔ سردیوں میں جلداول تو زیادہ خشک ہوتی ہے، دوئم اس میں توڑ پھوڑ کا عمل تیز ہوتا ہے اس لیے کوشش کیا کریں کہ اسکرب،  کھینچ کر اتارے جانے والے ماسک اور ایسی مصنوعات سے گریز کریں جن میں الکحل کا استعمال ہوا ہو۔


مزید پڑھیں

کیا آپ بھی نیند میں میسیج کرنے کی اس عادت کا شکار ہیں


گھریلو ٹوٹکوں کا استعمال

آخر میں بتاتے چلیں کہ سردیوں کا موسم گھریلو ٹوٹکوں اور کچن میں موجود اشیا کو چہرے اور جلد پر استعمال کرنے کے لیے موزوں ترین ہے۔ اس موسم میں گاجر، آلو، کھیرا، مالٹے، انار اور لیموں وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں، ان تمام چیزوں کو نا صرف کھانا مفید ہے، بلکہ انہی کے بنائے ماسک وغیرہ بھی جلد کو قدرتی تازگی فراہم کرنے میں معاون ہیں۔ حتی کہ مالٹے اور لیموں کے چھلکے بھی پھینکنے کے بجائے جلد کی خبصورتی بڑھانے کے لیے استعمال میں لائے جانے چاہئیں۔