رکن اسمبلی نے سندھ کی سرکاری کتب میں سنگین غلطیوں کا انکشاف کر دیا

کراچی: جماعت اسلامی کے رہنما اور متحدہ مجلس عمل کے رکن سندھ اسمبلی سید عبدالرشید کا کہنا ہے کہ لیاری کے جعلی ڈومیسائل پر داخلے دیے گئے ہیں جب کہ نرسنگ اسکول کے سینکڑوں طلبہ کے لیے اعلان کردہ ماہانہ مشاہرہ نہیں دیا جا رہا ہے۔ صوبہ میں سرکاری سطح پر شائع کردہ نصابی کتب میں سنگین غلطیاں کی گئی ہیں۔

جمعہ کے روز سندھ اسمبلی اجلاس کے دوران پوائنٹ آف آرڈر پر گفتگو کرتے ہوئے سید عبدالرشید کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو میڈیکل کالج کی سیٹوں میں کمی کردی گئی جس کی وجہ آج تک سامنے نہیں آئی، شہید بینظیر بھٹو میڈیکل کالج کی لیاری کیلئے مخصوص نشستوں میں بھی کمی کردی گئی ہے۔

کراچی کے قدیم ترین علاقے اور اپنے حلقہ انتخاب لیاری کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لیاری کےجعلی ڈومیسائل بنا کر لیاری کے حقیقی طلباء کی حق تلفی کی گئی۔


مزید پڑھیں

کراچی میں چینی قونصل خانہ پر حملہ را اسپانسرڈ تھا، پولیس


رکن سندھ اسمبلی سید عبدالرشید نے مطالبہ کیا کہ لیاری کی مخصوص نشستوں پر جعلی ڈومیسائل سے داخلوں کی تحقیقات کی جائیں۔

سندھ میں حکمراں جماعت پیپلزپارٹی کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کاخواب تھا کہ لیاری کو ترقی کی جانب آگے لے کر جانا ہے، لیاری والوں کے چھوٹے چھوٹے خواب ہیں ان کے ساتھ زیادتی بند کی جائے۔

سید عبدالرشید کا کہنا تھا کہ لیاری نرسنگ اسکول کے ساڑھے تین سو طالب علموں کا دس ہزار روپے ماہانہ مشاہرہ مقرر ہے انہیں ایک روپیہ نہیں دیا جاتا، وزیر صحت سے دوماہ پہلے بات کی لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

افسوسناک صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب طلبہ احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں تو ہمیں پھر اعتراض ہوتا ہے۔

جماعت اسلامی کے رہنما اور رکن سندھ اسمبلی کا کہنا تھا کہ نرسنگ اسکول میں داخلے کے لیے سیٹیں بھی انتظامیہ نے اڑھائی اور تین تین لاکھ میں فروخت کی ہیں۔


مزید پڑھیں

محکمہ ایکسائز سندھ نے چھ ماہ میں 36482 ملین روپے ٹیکس وصول کیا


حکومتی بینچوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ بچی کچھی تعلیم کو برباد ہونے سے بچائے۔

سید عبدالرشید کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کا دعوی ہے کہ وہ عوام دوست ہے لیکن اب تک کے اقدامات عملا عوام دشمنی کے نظر آ رہے ہیں۔ عوام دوستی کا مطلب ہے جو وزارتیں جن کے پاس ہیں وہ اپنے متعلقہ اداروں میں گڈ گورننس کو فروغ دیں۔

سندھ اسمبلی میں پوائنٹ آف آرڈر پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی جاری کردہ آزمائشی کتابیں غلطیوں سے بھری پڑی ہیں ان کی اشاعت کو روکا جائے، پہلی سے چھٹی جماعت تک کی کتابوں میں 3900 غلطیاں نکال چکا ہوں، حروف تہجی سے لے کر اسلامی عقائد تک کی غلط تشریحات پیش کی گئی ہیں۔ غلط تشریحات کر کے طلبہ کے اذہان کو کنفیوژاور نظریات کو خراب کیا جا رہا ہے۔

سید عبدالرشید نے کہا کہ معاشرتی علوم کی کتاب میں انسانی ارتقاء کو بن مانس سےجوڑا گیا ہے جو اسلامی تعلیمات کے مخالف ایجنڈا ہے، سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ ایسی کتابوں کی اشاعت کے لیے کروڑوں کے ٹینڈر جاری کر چکا ہے جو غلطیوں سے بھری پڑی ہیں۔

رکن سندھ اسمبلی کا کہنا تھا کہ تین ماہ قبل نصاب میں کی گئی غلطیوں کے حوالے سے سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کوتحریر ارسال کی جس کا جواب تاحال نہیں ملا ہے، تصیح کے جس کام پر لاکھوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں اسے ایک سرکاری اسکول کے پرائمری ٹیچر نے مرتب کر کے دستی بھی جمع کروا دیا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *