کے الیکٹرک افسر کے جنسی حملہ کا نشانہ بننے والی خاتون کی دہائی

کراچی: پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں کے الیکٹرک کے عملہ اور پولیس کے ہاتھوں بلیک میلنگ کا نشانہ بننے والی خاتون نے چیف جسٹس اور سندھ پولیس سربراہ سے مدد کی اپیل کی ہے۔

پروپاکستانی اردو کو دستیاب ویڈیو میں کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن کی رہائشی ثناء نامی خاتون خود پر بیتنے والی افسوسناک صورتحال کی تفصیل بتاتے دیکھی جا سکتی ہیں۔

خاتون کا کہنا ہے کہ وہ گھر میں نصب بجلی کا بل زیادہ آنے کی شکایت لے کر کے الیکٹرک کے دفتر گئی تو وہاں موجود شیرعالم نامی بلنگ آفیسر نے اس کی شکایت سن کر ازالہ کے بجائے دوستی کرنے کا کہا۔


مزید پڑھیں

رکن اسمبلی نے سندھ کی سرکاری کتب میں سنگین غلطیوں کا انکشاف کر دیا


خاتون کا کہنا ہے کہ میرے انکار اور وضاحت کرنے پر وہ دست درازی پر اتر آیا، میں ہاتھ چھڑا کر باہر نکلنے لگی تو اس نے میری عبایا کھینچ کر پھاڑ دی، میں بڑی مشکل سے کے الیکٹرک سینٹر سے نکل کر شاہ لطیف پولیس اسٹیشن پہنچی تاکہ شکایت درج کرا سکوں تو مجھے وہاں انتظار کرنے کا کہا گیا۔

ثناء نامی خاتون کا کہنا ہے کہ اس کی پولیس اسٹیشن میں موجودگی کے دوران ہی کے الیکٹرک کا شیر عالم نامی افسر اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ پولیس اسٹیشن پہنچا اور مجھے دھمکایا کہ وہ مجھے نہیں چھوڑے گا۔

خاتون کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی تحریری شکایت پولیس اسٹیشن میں دینا چاہی تاہم پولیس نے ان کی شکایت لینے سے انکار کر دیا۔

متاثرہ خاتون نے ویڈیو پیغام میں سندھ پولیس کے سربراہ اور سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ اس کی دادرسی کی جائے اور اسے بلیک میلنگ سے بچایا جائے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر زیرگردش ویڈیو میں بیان دیتی خاتون نے واقعہ کی تاریخ نہیں بتائی ہے تاہم وہ آبدیدہ لہجے میں خود پر بیتنے والی صورتحال مکمل تفصیل سے بتاتی دیکھی جا سکتی ہیں۔

یہ بات تاحال واضح نہیں کہ متاثرہ خاتون کی شکایت پر کے الیکٹرک اور کراچی پولیس کی جانب سے ملوث عملہ کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے۔

پاکستان میں ڈیجیٹل، نیو میڈیا کو متعارف کرانے والے ابتدائی افراد میں شامل شاہد عباسی پروپاکستانی ...


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *