اٹلی میں زیادہ بچے پیدا کرنے پر مراعات کا اعلان

روم: اٹلی کے علاقے لوکانا میں آبادی میں واضح کمی کے باعث بچے پیدا کرنے والی ماؤں کے لیے ایک ہزار ڈالر کی رقم سمیت پرکشش مراعات کا اعلان کیا گیا ہے۔

اٹلی بھی کئی دوسرے یورپی ملکوں سمیت آبادی میں کمی کے خطرے کا شکار ہے۔ عالمی رینکنگ کے مطابق جی ڈی پی کے اعتبار سے آٹھویں اور جی ڈی پی پر کیپیٹا رینکنگ میں ستائیسیویں نمبر پر موجود اٹلی بھی اپنی آبادی میں اضافہ کی سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہے۔


مزید پڑھیں

زیادہ آبادی پاکستان کے لیے زحمت نہیں رحمت، حکومت کو سمت درست کرنے کا مشورہ


اٹلی کے علاقے لوکانا میں آبادی اس قدر کم ہو چکی ہے کہ علاقے کی انتظامیہ کو آئندہ برسوں میں افرادی قوت کی شدید کمی ہو جائے گی۔

اس کمی کو دور کرنے کے لیے لوکانہ کی انتظامیہ نے دوسرے علاقے کے افراد کو اپنی علاقے میں منتقل ہونے کے لیے مختلف مراعات کا اعلان کیا ہے، جس میں شادی شدہ جوڑوں کو اولاد پیدا کرنے کے لیے ایک ہزار ڈالر تک کی رقم دینے کا اعلان کیا  گیا ہے جو پاکستانی روپوں میں ڈیرھ لاکھ سے کچھ کم رقم بنتی ہے۔

دنیا کی نصف آبادی کے مراکز کہلانے والے 83 ممالک بشمول برازیل، چین، جرمنی، اٹلی، ایران، جاپان، روس اور امریکا اس وقت آبادی کے جمود یا  کم شرح پیدائش جیسے  مسائل کا شکار ہیں۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں تاہم ماضی میں اپنی ہی کوششوں سے آبادی کم کرنے والے یہ ممالک تاحال مسئلہ کے حل سے دور نظر آتے ہیں۔

ماضی میں چین بھی ان ممالک میں شامل تھا جہاں آبادی کی افزائش پر سخت پابندیاں عائد تھیں۔ کوئی خاندان ایک سے زائد بچہ پیدا نہیں کر سکتا تھا تاہم دنیا کے سب سے بڑے ملک کو اس طریق کار کے غلط ہونے کا خمیازہ بھگتنا پڑا تو چینی حکومت نے یہ پالیسی ختم کر دی، ایک سے زائد بچے پیدا کرنے والوں کے لیے مراعات کا اعلان بھی کیا تاہم چین میں شرح پیدائش بڑھ نہیں سکی۔


مزید پڑھیں

چین میں ایک بچہ ایک خاندان پالیسی کے خاتمہ کے باوجود شرح پیدائش 58 برسوں کی کم ترین سطح پر


چند ہفتے قبل سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ چین میں شرح پیدائش 1960 کی سطح پر چلی گئی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *