اسکول ہوم ورک ہونا چاہیئے یا نہیں؟ وزیراعظم کے معان نے تجاویز مانگ لیں

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی نعیم الحق نے ٹوئٹر پر پاکستانی صارفین سے اسکولوں  میں ہوم ورک بند کرنے کے حوالے سے تجاویز مانگتے ہوئے ملک میں نئی سماجی بحث کا آغاز کر دیا۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ بچے اسکول میں آٹھ سے چھ گھنٹے گزار کر آتے ہیں، اور اگر ان کو آٹھ گھنٹے بعد گھر میں کرنے کا کام دے دیا جائے تو وہ زندگی کی باقی سرگرمیوں کو کب وقت دیں گے؟

ان کا کہنا تھا کہ ہوم ورک کے علاوہ باقی سرگرمیوں کو وقت دینا دماغی و جسمانی نشونما کے لیے ضروری ہے، تعلیم و تربیت کو ساتھ ساتھ چلنا چاہیے۔

نعیم الحق کے ٹوئٹ کے بعد حیران کن طور پر ٹوئٹر صارفین کی جانب سے اس تجویز کو بہت سراہا گیا، ٹوئٹر صارفین کی بڑی تعداد نے اس تجویز کا خیر مقدم کیا اور حکومت کی ان سماجی معاملات میں دلچسپی لیے جانے کی تعریف بھی کی۔


مزید پڑھیں

نجی اسکولوں نے زائد فیس وصول کرنے کے انوکھے جواز گھڑ لیے


زیادہ تر ٹوئٹر صارفین نے کہا کہ تعلیم کا نظام بچوں پر بوجھ ہے، صبح سیپارہ، دن کو اسکول، شام کو ہوم ورک، بچوں کے پاس کھیل کود کا وقت بچتا ہی نہیں، جب کہ کھیل کود بھی جسمانی و ذینی نشوونما کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جس قدر تعلیم ضروری ہے۔

گزشتہ کافی عرصہ سے سماجی روابط کی ویب سائٹس پر بچوں کی تربیت کے حوالے سے بحث و مباحثہ جاری ہے، جس میں بچوں کو اسکول بھیجنے کی کم سے کم عمر طے کرنے، اسکول بیگ کا وزن، ہوم ورک اور نصاب تعلیم جیسے معاملات شامل ہیں، لیکن یہ پہلی بار دیکھا گیا کہ کسی حکومتی نمائندے کی جانب سے ایسی بحث کو چھیڑا گیا ہے۔

یہ ٹویٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت بااثر اسکولوں کی جانب سے واضح عدالتی حکم کے باوجود فیسوں میں کمی پر عملدرآمد نہ کرا سکنے کی مشکل کا شکار ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *