امریکا اپریل تک اپنی آدھی فوج افغانستان سے نکال لے گا، طالبان رہنما

ماسکو: طالبان رہنما عبدالسلام حنیفی کا کہنا ہے کہ امریکا اپریل کے مہینے تک اپنی افواج کی نصف تعداد افغانستان سے نکال لے گا، غیرملکی افواج کا انخلا یکم فروری سے شروع ہو چکا ہے۔

ماسکو میں منعقد کی گئی افغان امن کانفرنس کے موقع پر عبدالسلام حنیفی نے میڈیا کو بتایا کہ امریکا فروری سے اپریل تک اپنی افواج کی نصف تعداد افغانستان سے نکال لے گا۔

دوسری جانب امریکا نے ابھی تک اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے تاہم پینٹاگون کے ترجمان کرنل راب میننگ کا کہنا ہےکہ امریکی فوج کو انخلا کا کوئی حکم نہیں ملا، طالبان کے ساتھ امن مذاکرات جاری ہیں۔


مزید پڑھیں

ٹرمپ نے شام اور افغانستان سے پسپائی کا اعلان کر دیا


گزشتہ روز ہی امریکا کے ساتھ امن مذاکرات میں طالبان کی سربراہی کرنے والے رہنما شیر محمد عباس استکزئی نے کہا تھا کہ طالبان طاقت کے ذریعے سارے افغانستان پر قابض ہونے کے خواہوں نہیں ہیں، بلکہ نوے کی دہائی میں اپنے سابق دور حکومت میں ہی ہم سمجھ چکے تھے کہ امن قائم رکھنا جنگ سے زیادہ مشکل کام ہے۔

اپنے اس موقف کے ساتھ ساتھ ماسکو میں برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ افغانستان سے بیرونی افواج کے انخلا تک طالبان جنگ بندی پر رضامند نہیں ہوں گے۔


مزید پڑھیں

ایران پر نظر رکھنے کے لیے ہم سے اجازت نہیں لی گئی، عراقی صدر


صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خارجہ پالیسی میں واضح تبدیلی لاتے ہوئے افغانستان میں امریکی فوج کی تعداد میں نمایاں کمی لانے کا چند ماہ قبل عندیہ دیا تھا، امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے پینٹاگان کو حکم دیا تھا کہ چند ماہ کے دوران 7 ہزار امریکی فوجیوں کو افغانستان سے نکال لیا جائے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *