جمال خاشقجی کا قتل، اقوام متحدہ نے بھی سعودی حکام کا ملوث ہونا تسلیم کر لیا

واشنگٹن: اقوام متحدہ کی جانب سے سعودی صحافی جمال خاشقجی قتل کیس کی تحقیقاتی کمیٹی نے سعودی حکام کو قتل کا ذمہ دار ٹھہرا دیا۔

اقوام متحدہ کے تین رکنی انکوائری کمیشن نے خاشقجی قتل کیس سے متعلق جاری تحقیقات میں آڈیو ثبوت کا جائزہ لیا اور سعودی حکام کو ان کے قتل کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق حتمی رپورٹ جون میں پیش کرنے کی تاریخ دی ہے۔


مزید پڑھیں

انجیلینا جولی نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف مظالم روکنے کا مطالبہ کردیا


عرب میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کے ممبر کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق ترکی کی تحقیقات میں رخنے بھی ڈالے۔

یاد رہے کہ جمال خاشقجی کو 2 اکتوبر کو ترکی کے شہر استنبول میں واقع سعودی قونصلیٹ میں قتل کر دیا گیا تھا، سی سی ٹی وی فوٹیج سے وہ قونصلیٹ میں داخل ہوتے تو دیکھے گئے، لیکن باہر نہیں آئے، بعد ازاں  ان کے جسم کے اعضا سعودی قونصلر جنرل کے گھر کے باغ سے برآمد ہوئے تھے۔

معاملہ سامنے آنے پر سعودی عرب اور امریکی کردار کے باوجود ترکی نے جمال خاشقجی قتل کی تحقیقات میں واضح پیشرفت کی تھی، ترک تحقیقات کے دوران پہلی بار یہ واضح ہوا تھا کسی انتظامی معاملہ پر ترکی میں موجود سعودی سفارت خانہ پہنچنے والے جمال خاشقجی کے قتل میں سعودی حکام ملوث ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *