بھارتی مسلمان گلوکار اے آر رحمان بیٹی کے پردہ کی وجہ سے انتہاپسندوں کا نشانہ

نئی دہلی: عالمی شہرت یافتہ بھارتی گلوکار اے آر رحمان کو بیٹی کے پردہ کرنے کی وجہ سے انتہا پسندوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

گلوکار اے آر رحمان ( اللہ رکھا رحمٰن ) اور اُن کی بڑی بیٹی خدیجہ رحمٰن کو اُس وقت سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے جب انہوں نے اپنے والد یعنی اے آر رحمٰن کے ساتھ ایک تقریب میں “نقاب” کر کے شرکت کی۔

جیسے ہی خدیجہ کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی انتہاپسندوں کی جانب سے ان کے پردہ کرنے پر تنقید کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ تبصرہ کرنے والوں کا کہنا تھا کہ جب وہ کسی کو اس قدر کپڑوں میں چھپا ہوا دیکھتے ہیں تو ان کو بہت ترس آتا ہے، کہ یہ شخص اپنی زندگی کو اپنی مرضی سے گزارنے کے قابل بھی نہیں ہے۔

پردہ پر انتہاپسند تبصرے کرنے والوں نے یہیں بس نہیں کی بلکہ خدیجہ کے پردہ کرنے پر ان کے والد اے آر رحمن کو بھی طنز کے نشتروں کا شکار کیا۔ تبصرہ کرنے والوں کا دعوی تھا کہ اے آر رحمن زبردستی اپنی بیٹی سے پردہ کراتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر اس قسم کے انتہاپسندانہ تبصروں کے بعد کافی گرما گرم بحث چھڑ گئی۔ بڑی تعداد میں مسلمان خواتین اور مردوں کی جانب سے انتہاپسندانہ تبصرے کرنے والوں کا جواب بھی دیا گیا۔

خدیجہ رحمن کے پردہ کا دفاع کرنے والوں کا کہنا تھا کہ جو بے لباسی یا کم لباسی کو اپنا حق مانتے ہیں وہ کسی کے پردہ کرنے کو اس کا حق کیوں تسلیم نہیں کرتے؟

جب یہ بحث شدت اختیار کر گئی تو اے آر رحمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پراپنی فیملی کی تصویر شیئر کی، جس میں اُن کی بیوی سائرہ اور دونوں بیٹیاں خدیجہ اور رحیمہ، امیش امبانی کی بیوی نیتا امبانی کے ہمراہ موجود ہیں، خاص بات یہ کہ ان کی بیوی سائرہ اور چھوٹی بیٹی رحیمہ اس تصویر میں نقاب کے بغیر جب کہ بڑی بیٹی خدیجہ وہاں بھی مکمل پردے میں ہیں،  اپنے ٹوئٹ میں تصویر کے ساتھ اے آر رحمان نے لکھا کہ ہر شخص کو اپنی زندگی اپنے طریقے سے گزارنے کا حق حاصل ہے۔

دوسری جانب اُن کی بیٹی خدیجہ نے اپنا موقف واضح کرنے کے لیے فیس بک کا استعمال کیا، جہاں انہوں نے پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا کہ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ان کی تصویر اس قدر مقبولیت حاصل کرے گی، تاہم انہیں اس بات پر حیرت ہوئی ہے کہ لوگ ان کے پردے کا ذمہ دار ان کے والد کو ٹھہرا رہے ہیں، حالانکہ وہ اپنی مرضی سے پردہ کرتی ہیں نہ کے کسی کے دبائو میں آکر اور انہیں ایسا کرنے کا پورا اختیار بھی ہے۔ وہ خود کو کس روپ میں دیکھنا چاہتی ہیں یہ اُن کی مرضی ہے۔

خدیجہ نے مزید کہا کہ مداح اُن کے لباس کو لے کر اُن کے والد (اے آر رحمان) کو ذمہ دار ٹھرا رہے ہیں جو کہ سراسر غلط ہے۔ انہوں نے دوٹوک لفظوں میں کہا کہ وہ اپنی شناخت (مسلمان عورت کے لیے فرض کیے گئے پردہ پر عمل) کو اختیار کیے ہوئے ہیں، اسے انہوں نے ہیش ٹیگ بھی بنایا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *