مالاکنڈ ڈویژن میں بجلی کی تقسیم کے لیے نیا خود مختار ادارہ قائم کرنے کی قراردار منظور

پشاور: جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے نائب امیر و ممبر صوبائی اسمبلی عنایت اللہ خان نے مالاکنڈ ڈویژن میں پیسکو کی طرز پر بجلی تقسیم کرنے کے خود مختار ادارے کے قیام کی قرارداد پیش کی جوکہ منتفقہ طورپر منظور کر لی گئی۔

قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ چونکہ ملاکنڈ ڈویژن صوبے کا سب سے بڑا ڈویژن ہے اور یہاں سب سے زیادہ 90 سے 100 فیصد تک ریکوری بھی ہوتی ہے اس لیے واپڈا اور وزارت پانی و بجلی کی پالیسی کے مطابق یہاں زیرو لوڈشیڈنگ ہونی چاہیے، لیکن بدقسمتی سے گرمیوں کے موسم میں ملاکنڈ ڈویژن میں اٹھارہ گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے جو کہ یہاں کے عوام کے ساتھ ظلم ہے۔


مزید پڑھیں

خیبرپختونخوا میں اب اس قسم کا آٹا فروخت نہیں ہو سکے گا


قرارداد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عنایت اللہ خان نے کہا کہ لوڈ شیڈنگ نے سردیوں میں بھی ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کا جینا محال کیا ہوا ہے۔

کوہستان، براول، مسکینی درہ سمیت دیگر علاقوں میں بجلی یکسر ناپید ہے، اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن کے اندر بجلی پیدا کرنے کا ایک خود مختار ادارہ قائم کیا جائے تاکہ لوڈشیڈنگ کے مسئلے سے چھٹکارا پایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں ہائیڈل پاور کی سب سے زیادہ صلاحیت موجود ہے، ملاکنڈ ڈویژن میں ایک اندازے کے مطابق 7 سے 8 ہزار میگاواٹ تک بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

کوٹو ہائیڈل پاور اسٹیشن، شگو کس ہائیڈل پاور اسٹیشن سمیت چترال اور سوات میں بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔


مزید پڑھیں

مردان اور ایبٹ آباد میں خواتین کے لیے پِنک بس سروس پر پیشرفت


ملاکنڈ ڈویژن کو خود مختار کمپنی دینے سے یہاں بجلی کی ترسیل اور ریکوری کا کام تسلی بخش انداز میں کیا جاسکے گا، اس طریقے سے یہاں سیاح بھی آئیں گے اور صنعتیں بھی لگائی جاسکیں گی جس سے ملاکنڈ ڈویژن کی پسماندگی کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔

جماعت اسلامی کے رہنما اور رکن صوبائی اسمبلی کا کہنا تھا کہ وہ صوبائی حکومت، اپوزیشن اور اسپیکر کے مشکور ہیں کہ انہوں نے قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کیا۔

انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ وفاقی حکومت بھی صوبائی اسمبلی کی قرارداد پر عمل کرے گی اور مالاکنڈ ڈویژن میں بجلی کی ترسیل کی کمپنی کے قیام کی منظوری دے گی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *