اوزون اور خشکی کے بعد سمندر بھی گلوبل وارمنگ کا شکار

اسلام آباد: درجہ حرارت میں مسلسل اضافے سے سمندری پانی کے رنگوں میں واضح تبدیلی آ چکی ہے۔

سائنسدانوں کی جانب سے کی گئی حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گلوبل وارمنگ کی بدولت جہاں زمین کا درجہ حرارت بڑھنے سے اوزون لیئر خراب ہونے، خشکی کے خطوں میں شدید موسمیاتی تبدیلیاں آنے اور گلیشیئر پگھلنے جیسے نقصانات سامنے آئے ہیں، وہیں ایک بہت بڑی تبدیلی مزید واقع ہونے جا رہی ہے، جس کے مطابق سمندری پانی کے رنگ میں مسلسل تبدیلی پیدا ہو رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے جن سمندروں کا رنگ سبز تھا وہ مزید سبز، جب کہ جن کا رنگ نیلا تھا، وہ مزید نیلا ہو رہا ہے۔

رنگوں کی اس تبدیلی سے سمندروں کے ایکو سسٹم میں بھی تبدیلی پیدا ہو رہی ہے۔


مزید پڑھیں

سیاہ لہسن، صحت کا وہ خزانہ جس سے ہم لاعلم ہیں


تحقیق کے مطابق سمندروں کو رنگ دینے کی ذمہ دار ایک خوردبینی الجی (کائی) ہے جسے فائٹو پلینکٹون کہا جاتا ہے۔

یہ الجی سورج کی روشنی کو جذب کرتی ہے اور آکسیجن پیدا کرتی ہے، جن سمندروں میں زیادہ فائٹو پلینکٹون موجود ہے وہ سبز جبکہ کم فائٹو پلینکٹون رکھنے والے سمندر نیلا رنگ رکھتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ رنگوں کی اس تبدیلی کے بہت معنوی نقصان ہو سکتے ہیں، جن میں ماہی گیری میں کمی، سمندری حیات کو نقصان سمیت کئی دیگر نقصانات شامل ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *