ایران کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا

14 فروری کو ایرانی پاسداران انقلاب فورس پر دہشت گردانہ حملے کے نتیجے میں 41 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے، پاکستان کی جانب سے حملے کی شدید لہجے مذمت کی گئی اور ایران سے افسوس کا اظہار بھی کیا گیا تاہم پاسداران انقلاب فورس کے کمانڈر نے پاکستان پر حملے میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے۔

پاکستان کے خلاف ایرانی الزام تراشیوں کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف سے بات کی ہے اور حالیہ حملے پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔

شاہ محمود قریشی کے مطابق یہ حملے ناقابل قبول ہیں جس کی ہم مذمت کرتے ہیں، ایران ہمارا پڑوسی ملک ہے جس کے لیے ہم کوئی مشکلات کھڑی نہیں کرنا چاہتے۔


مزید پڑھیں

عالمی عدالت انصاف میں ایران نے امریکا کو شکست دے دی


وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم ایران کی خود مختاری کا احترام کرتے ہیں اور امید ہے کہ ایران بھی ہماری خودمختاری کا احترام کرے گا، اگر انہیں کوئی مسائل ہیں تو اس پر بات چیت ہوسکتی ہے اور اگر حملے سے متعلق کوئی ثبوت ہیں تو فراہم کریں ہم تعاون کریں گے، ہم نے پہلے بھی ان کے ساتھ تعاون کیا ہے اور ان کی مدد کی ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔

شاہ محمود قریشی کا جواب اور انداز جواب انتہائی موزون اور اور قابل تعریف ہونے کے ساتھ ساتھ ایران کے لیے قابل غور ہے۔

ایران کی جانب سے الزام تراشیوں کا سلسلہ کافی پرانا ہے، ایران میں کئی مرتبہ حملے ہوچکے ہیں اور متعدد مرتبہ ایران نے پاکستان پر حملوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے تاہم ایران کبھی بھی اپنے الزام کا ثبوت پیش نہ کر پایا اور پاکستان نے ہمیشہ سے ایران کی جانب سے الزامات کو پڑوسی کی غفلت یا پھر جلد بازی سمجھ کر فراموش کردیا اور مستقبل میں مزید کرتا رہے گا۔

اس بار ایران کی جانب کے الزام تراشی پر بھت زیادہ افسوس ہورہا ہے کیونکہ یہ الزام ایک ایسے وقت میں لگایا جارہا ہے جس میں بھارت بھی پاکستان پر پلوامہ حملے کی ذمہ داری عائد کرکے پوری دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہا۔

چاہیے یہ تھا کہ ایران جسکے بھارت کے ساتھ پاکستان سے بھی زیادہ بہتر تعلقات ہیں بھارتی حکومت کو یہ سمجھائے کہ پلوامہ حملہ بھارتی فورسز کے ہاتھوں کشمیریوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کا نتیجہ ہے اور حملے کا الزام پاکستان پر عائد کرنا حقائق سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔

مگر افسوس کہ ایران نے ایسا نہیں کیا اور بھارت ہی کی طرح بے بنیاد الزامات پاکستان پر عائد کردیے۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اقتدار میں آنے کے بعد پڑوسی ممالک بالخصوص بھارت، ایران اور افغانستان کو واضح پیغام دیا تھا کہ پاکستان اپنے تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہیں اور کسی بھی پڑوسی ملک کے ساتھ کشیدگی نہیں چاہتا۔


مزید پڑھیں

پاک بحریہ کے جہازوں کا ایرانی بندرگاہ کا دورہ


عمران خان کے اس پیغام کو تمام پڑوسی ممالک پاکستان کی کمزاری نہ سمجھیں اور ویسے بھی دوستی کا ہاتھ بڑھانے والے کو کمزور تصور کمزور کرنا بیوقوفی ہے۔

ایرانی حکام سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ وہ پاکستان پر بے بنیاد اور بنا ثبوت کے الزام تراشیوں کا سلسلہ بند کرے اور ذرا اپنی اندرونی حالات، عوامی جذبات اور پالیسیوں پر نظر ڈالے کیونکہ ایسا کرنے سے انہیں اندازہ ہوجائے گا کہ ایران میں حملے کون کررہے ہیں اور کیوں کررہے ہیں۔

رہی بات پاکستان کی تو وہ ہمیشہ سے ایران کو اپنا پڑوسی اور دوست ملک سمجھتا آرہا ہے اور آئندہ بھی سمجھتا رہے گا تاہم اس کے لیے ضروری کہ ایران بے بنیاد الزام تراشیوں سے باز رہے، اور اگر ایرانی حکام کو پاکستان سے حالیہ حملے کی تحقیقات میں مدد چاہیے تو پاکستانی حکام مدد کے لیے تیار ہے۔

ایران کو سمجھنا چاہیے کہ پاکستان نے ہمیشہ سے ایران کی خود مختاری کا احترام کرتے ہوئے عالمی سطح پر ہمیشہ ایران کی حمایت کی ہے اور امید ہے کہ ایران بھی پاکستان اسی طرح کرنے کا خواہش مند ہوگا۔

 


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *