شیسپر گلیشیئر کی سرکنے سے دو بجلی گھر بند کر دیے گئے

ہنزہ: شیسپر گلیشیئر کے سرکنے کا عمل تیزی سے جاری ہے، جس کی وجہ سے حکام نے دو بجلی گھروں کو فوری بند کر دیا ہے۔

بجلی گھر بند ہو جانے کے باعث ہنزہ کی 70 فیصد آبادی بجلی سے محروم ہو چکی ہے۔

اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ شیسپر گلیشیئر کی چوڑائی 1300 میٹر ہے جو گزشتہ 3 ماہ کے دوران 1750 میٹر تک سرک چکا ہے۔

پاکستان کے گلیشیئر تیزی سے نا صرف پگھل رہے ہیں، بلکہ وہ اپنی جگہوں سے سرکتے بھی جا رہے ہیں، گلوبل وارمنگ کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہمالیہ اور قراقرم ریجن میں گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں اور پاکستان اکنامک سروے برائے سال 15-2014 کے مطابق دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں پاکستان کے 5 ہزار گلیشیئر تیزی سے سرک رہے ہیں۔


مزید پڑھیں

اوزون اور خشکی کے بعد سمندر بھی گلوبل وارمنگ کا شکار


اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق شیسپر گلیشیئر سرکنے سے زیر تعمیر بجلی گھر کا ایک حصہ زد میں آگیا جب کہ نالے میں پانی کا بہاؤ بھی رک گیا۔

اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ شیسپر گلیشیئر سرکنے پر 2 بجلی گھروں کو بند کردیا گیا ہے جس کے باعث ہنزہ کی 70 فیصد آبادی بجلی سے محروم ہوچکی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *