ایران میں حملے کون اور کیوں کررہا ہے؟

برادر اور پڑوسی ملک ایران میں گزشتہ 13 فروری کو ایرانی پاسداران انقلاب فورس پر ایک خود کش حملہ وقوع پذیر ہوا جس کے نتیجے میں 27 فوجی ہلاک اور 13 زخمی ہوگئے۔

اس افسوسناک واقعے کے بعد ایران نے حملے کی ذمہ داری پاکستانی سیکیورٹی ایجنسیوں پر عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ خودکش حملہ آور کا تعلق پاکستان سے ہے، پاسداران انقلاب فورس کے کمانڈر میجر جنرل محمد علی جعفری نے واقعے کا الزام پاکستان پر لگاتے ہوئے کہا کہ پاکستانی سیکیورٹی ادارے ایران میں خود کُش حملہ آوروں کی پشت پناہی کرتے ہیں۔

موصوف نے دھمکی آمیز انداز میں پاکستان کو خبردار بھی کیا ہے کہ اگر پاکستان اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا تو ایران کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پاکستان کے اندر دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کرے اور انہیں سزا دے، دوسرے لفظوں میں محمد علی جعفری پاکستان میں سرجیکل اسٹرائیک کی دھمکی دے رہے تھے۔

پاسداران انقلاب فورس پر حملہ پاکستان کے صوبے بلوچستان سے ملحقہ ایرانی صوبہ سیستان و بلوچستان میں پیش آیا جوکہ ایران کے اُن متعدد علیحدگی پسند صوبوں میں سے ایک ہے جو ایران سے علیحدگی کے خواہاں ہیں۔

13فروری حملے کی ذمہ داری ایرانی بلوچوں کی عسکریت پسند تنظیم ’’جیش العدل‘‘  نے قبول کرتے ہوئے واضح طور پر کہا ہے کہ حملہ ایرانی نظام کے مظالم اور امتیازی سلوک سے تنگ بلوچی نوجوان نے کیا ہے اور مستقبل میں بھی ایرانی فورسز کے خلاف ایسے حملے جاری رہیں گے۔

گزشتہ سال 22 ستمبر کی صبح ایرانی صوبے خوزستان کے مشہور شہر اہواز میں متعدد حملہ آوروں نے پاسداران انقلاب فورس کی پریڈ پر حملہ کرتے ہوئے 29 افراد کو ہلاک اور درجنوں کو زخمی کردیا تھا۔

اس حملے کی اگرچہ دہشت گرد تنظیم داعش نے ذمہ داری قبول کی تھی تاہم داعش سے قبل حملے کی ذمہ داری اہواز کی علیحدگی پسند تنظیم ’’مقاومت ملی اہواز‘‘ نے کی تھی اور ایران کے باہر مقیم اہوازیوں نے حملے پر خوشیاں منائیں۔

ایران کے جنوب میں واقع اہواز کا علاقہ در اصل اس خطے کا ایک فراموش کردہ علاقہ ہے، یہاں کے باشندے فارسی نہیں بلکہ عرب ہیں، وہ عربی بولتے ہیں اور خلیجی ممالک کے عربوں کی طرح کا ہی لباس زیب تن کرتے ہیں۔

اہوازیوں کا کہنا ہے کہ ایران نے انکی سرزمین پر قبضہ کررکھا ہے جسے آزاد کرانے کے لیے دہائیوں سے جدوجہد کی جارہی ہے۔

اسی طرح ایران میں کردستان کے نام سے بھی ایک صوبہ موجود ہے جہاں کے کرد باشندے دہائیوں سے ایران سے علیحدگی کے خواہشمند ہیں۔

ایران کا اصل مسئلہ وہاں سرگرم علیحدگی پسند اقلیتوں کا ہے اور سرزمین فارس میں ایرانی فورسز کے خلاف کارروائیوں کے پیچھے علیحدگی پسند عسکری تنظیمیں ہیں۔


مزید پڑھیں

ایران کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا


تاہم ایران اپنے  ملک میں پائے جانے والے اندرونی خلفشار کو چھپانے کے لیے آس پڑوس کے ممالک پر الزام تراشیاں کرتا رہتا ہے جیسا کہ پاکستان۔

میجر جنرل محمد علی جعفری پاکستان کو سیکیورٹی کا درس نہ دیں، پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے، مملکت خداداد نے اس جنگ میں 70 ہزار سے زائد قربانیاں پیش کی ہیں اور دس سال سے بھی زائد عرصہ گزر جانے کے بعد پاکستان دہشت گردی کے ناسور پر قابو پاسکا ہے۔

لہذا ایرانی حکومت کو چاہیے کہ پاکستان پر الزام لگانے کے بجائے اپنے ملک میں موجود عدم استحکام پر قابو پاتے ہوئے اقلیتوں کا خیال رکھے جو تنگ آکر سیکیورٹی فورسز پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

پاکستان پر ایرانی الزام تراشیوں کی ایک اور اہم وجہ پاک سعودی تعلقات بھی ہیں حالانکہ پاکستان نے ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات اسی بنا پر استوار کیے جن سے ایران کے ساتھ تعلقات پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں، یہی وجہ ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران جہاں 21 ارب ڈالر سرمایہ کاری کے معاہدے ہوئے وہیں دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی قسم کا کوئی عسکری معاہدہ نہیں ہوا اور ایسا پاکستان نے ایران کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کیا لیکن پاکستان کو اس کے بدلے صلے میں ایک نئے من گھرٹ الزام سے نوازا گیا۔

ایران سے پاکستان کی خوشحالی وہ بھی سعودی عرب کے توسط سے نہیں دیکھی جارہی، اگر ایران کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات خوشگوار نہیں اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اسکے پڑوسی پاکستان کے تعلقات بھی سعودی عرب کے ساتھ خراب ہونے چاہیے۔

ایران کے بھارت کے ساتھ تعلقات انتہائی مضبوط اور گہرے ہونے کے ساتھ ساتھ شراکت داری پر مبنی ہیں تاہم پاکستان نے کبھی ایران پر یہ ظاہر نہیں کیا کہ پاکستان کا پڑوسی ہونے کے ناطے اس کے تعلقات بھارت سے اچھے نہیں ہونے چاہیے۔

اصل بات یہ ہے کہ بھارت اور ایران دونوں ہی کو پاکستان کی خوشحالی ہضم نہیں ہوتی، تبھی دونوں ممالک جب کبھی پاکستان کی بہتری دیکھتے ہیں تو پاکستان پر الزام تراشیاں کرتے ہیں، بھارت کی جانب سے اس رویے کی وجہ تو سمجھ میں آتی ہے اور ایسا نہیں کہ ایران کی جانب سے اس رویے کی وجہ کسی کو معلوم نہ ہو لیکن پھر بھی ایرانی حکومت سے گزارش ہے کہ وہ اسلامی بھائی چارے کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے پاکستان پر الزام تراشیوں کا سلسلہ بند کرے۔

پاکستان کی خاموشی اور نظر اندازی کو ایران کمزوری نہ سمجھے، پاکستان کو اپنے اوپر عائد الزامات کا بخوبی جواب دینا آتا ہے مگر وہ ہمیشہ سے اسلامی بھائی چارے کی وجہ سے رُک جاتا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *