کلبھوشن یادیو کیس، متوقع فیصلہ اور تجزیہ

انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے استاد اور شریعہ اکیڈمی اسلامک یونیورسٹی کے ڈائریکٹر پروفیسر محمد مشتاق صاحب نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر قانونی تقاضوں سے مزین کلبھوشن یادیو کیس کا تجزیہ پیش کیا ہے، پروفیسر محمد مشتاق کے بارے میں بتاتے چلیں کہ پانامہ کیس میں ان کے تجزیوں کو سوشل میڈیا پر بہت پذیرائی ملی تھی، جو بعد ازاں سو فیصد درست ثابت ہوئے تھے۔

کلبھوشن یادیو کیس پر پروفیسر محمد مشتاق کہتے ہیں کہ بین الاقوامی عدالت انصاف کے کچھ ججز تو مستقل ہوتے ہیں اور ایک ایڈ ہاک، یعنی عارضی جج، ایڈہاک جج ہر فریق ریاست کی جانب سے ہوتا ہے، اس ایڈ ہاک جج کو دیگر ججز کے برابر اختیارات حاصل ہوتے ہیں، اختلاف کی صورت میں چونکہ اکثریت کا فیصلہ نافذ ہوتا ہے، اس لیے ایڈ ہاک جج کا ووٹ بھی اہم ہوجاتا ہے۔

تاہم عام طور ایڈ ہاک جج کی بنیاد پر اکثریت یا اقلیت میں کوئی خاص فرق نہیں واقع ہوتا، البتہ ایک اور پہلو سے ایڈ ہاک جج کا فیصلہ اہم ہوتا ہے، وہ یہ کہ  ایڈہاک جج فریق مخالف کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد اور دلائل کا محاکمہ کرکے اپنی ریاست کا مقدمہ ایک مضبوط اور منظم طریقے سے پیش کردیتا ہے جو بعد میں عالمی برادری کے سامنے اس کی ریاست کا موقف پیش کرنے میں بہت کارآمد ثابت ہوتا ہے۔


مزید پڑھیں

کلبھوشن جادیو کیس، پاکستان مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں اترنے کو تیار


اس لیے اتنے اہم موقع پر پاکستان کی جانب سے مقرر کیے گئے ایڈ ہاک جج، جسٹس تصدق حسین جیلانی، سابق چیف جسٹس آف پاکستان، کو ایسی کیا شدید بیماری لاحق ہوگئی کہ وہ بنچ میں نہیں بیٹھ سکے، یہ نکتہ کل کو پاکستان کے لئے مسائل کا باعث بن سکتا ہے
پروفیسر محمد مشتاق نے کہا ہے کہ جہاں تک فیصلے کا تعلق ہے تو کیس کی کارروائی کا جائزہ لینے کے بعد میری راے یہ ہے کہ فیصلہ یہی ہوگا کہ قونصلر رسائی سے انکار کرکے پاکستان نے ویانا معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی ہے، تاہم اگر اسے خلاف ورزی قرار بھی دیا جائے تو اس پر کلبھوشن کی رہائی نہیں ہوسکتی بلکہ زیادہ سے زیادہ قونصلر رسائی دے دینے کا کہا جائے گا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا  کہ اب قونصلر رسائی دے دینے سے بھی پاکستان کو  کوئی نقصان نہیں ہوگا کیونکہ جو کچھ پاکستان نے اس سے معلوم کرنا تھا وہ معلوم کیا جا چکا، اور اس کے بعد اس کے نیٹ ورک کو توڑنے کا کام بھی ہمارے ادارے کماحقہ کرچکے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ  قونصلر رسائی دے چکنے کے بعد بھی اسے پاکستانی عدالت سزاے موت دے سکتی ہے، کیونکہ عالمی عدالت انصاف کا درجہ اپیکس کورٹ کا نہیں ہے، یہ کسی ریاست کی اندرونی عدالتوں کے فیصلوں پر اثرانداز ںہیں ہو سکتی، اس لیے عالمی عدالت انصاف پاکستان کی فوجی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کا اختیار بھی نہیں رکھتی، البتہ اس سے زیادہ سے زیادہ نقصان یہ ہوگا کہ انڈیا کو پروپیگنڈے کا اچھا خاصا موقع مل جائے گا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *