کیا امریکا اور افغان طالبان کے درمیان امن معاہدہ ہوپائے گا؟

2001 میں نائن الیون حملوں کا ذمہ دار القاعدہ کو ٹھرانے کے بعد امریکا نے افغانستان میں برسر اقتدار تحریک طالبان سے اسامہ بن لادن کی حوالگی کا مطالبہ کرتے ہوئے دہمکی دی تھی کہ اگر وہ اسامہ بن لادن کو امریکا کے حوالے نہیں کرتے تو افغانستان کے خلاف بقاعدہ طور پر جنگ کا آغاز کردیا جائے گا۔

اس وقت افغان طالبان کے سربراہ ملا عمر نے امریکی مطالبہ مسترد کرتے ہوئے اسامہ بن لادن کو افغانستان کا مہمان قرار دیا، ملا عمر نے واضح طور امریکا کو پیغام دیا کہ وہ اسامہ بن لادن اور افغانستان کے دفاع کے لیے تیار ہیں اسکے بعد امریکا اور اسکے نیٹو اتحادیوں نے افغانستان کے خلاف ایک ایسی جنگ شروع کی جس کی آگ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔

جنگ کے ذریعے القاعدہ تو خاصی کمزور ہوئی تاہم افغان طالبان کچھ سال عقب نشینی کے بعد گزشتہ چند سالوں سے پھر سے ایک طاقت بن کر ابھر آئی ہے۔

اس دوران افغان طالبان کے بانی ملا عمر کی اچانک موت اور پھر نئے امیر ملا اختر منصور کی ہلاکت جیسے اہم واقعات رونما ہوئے اور سبھی کو یہی لگ رہا تھا کہ افغان طالبان کی کہانی اب ختم ہونے جارہی ہے۔

تاہم طالبان کی قیادت ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کے ہاتھ میں آنے کے بعد طالبان نے ایک بار پھر زور پکڑ لیا اور آج صورت حال یہ ہے کہ افغان طالبان نے متعدد صوبوں میں پھر سے کنٹرول سنبھال لیا ہے اور نہ صرف افغان فورسز بلکہ امریکا اور اسکے اتحادیوں کی افواج کے لیے بھی طالبان خوف کی نشانی بن چکا ہے۔

تکنیکی لحاظ سے امریکا اور اس کے اتحادی افغان جنگ ہار چکے ہیں کیونکہ امریکا کی جانب سے 2001 میں افغان جنگ کے حوالے اعلان کردہ اہداف میں بیشتر اٹھارہ سال کزرجانے کے بعد بھی حاصل نہیں کیے گئے جن میں افغان طالبان اور القاعدہ کا خاتمہ شامل ہے۔


مزید پڑھیں

ایران میں حملے کون اور کیوں کررہا ہے؟


اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے امریکا کی جانب سے وہی چال چلائی گئی جو افغانستان سے قبل عراق اور شام میں چلائی جاچکی ہے۔

امریکا نے افغانستان میں طالبان سے مقابلے کے لیے داعش کو میدان میں لیا جسکی وجہ سے خون آلودہ افغانستان کی آب و ہوا میں خون کی نئی ہولی کا آغاز ہوا۔

افغانستان میں طالبان اور داعش کے درمیان طاقت کے حصول کے لیے نئی جنگ کا آغاز ہوا، یہی حربہ امیرکا نے القاعدہ سے نمٹنے کے لیے عراق اور شام میں اپنایا تھا۔

افغانستان میں اس وقت طالبان کا بلڑہ داعش کے مقابلے میں زیادہ بھاری جس کی وجہ سے امریکا کو شدید مشکلات کا سامنا ہے علاوہ ازیں افغان طالبان کے ملکی و غیر ملکی سیکیورٹی فورسز کے خلاف حملے بھیانک خواب کے مانند بن چکے ہیں۔

افغانی میدان جنگ میں طالبان کی مستحکم پوزیشن نے امریکا کو طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے مجبور کردیا ہے، امریکا کی کوشش ہے کہ کسی طرح طالبان کو منا کر خون ریزی کا سلسلہ بند کیا جائے۔

البتہ حقیقت یہ ہے کہ امریکا افغانستان میں قیام امن کا خواہاں نہیں وہ صرف ’’ٹائم گیننگ‘‘ کا حربہ استعمال کرتے ہوئے ایک نئی چال کی تیاری میں مصروف ہے جو تیار ہوتے ہی امریکا طالبان کے ساتھ مذاکرات سے دستبردار ہونے کا اعلان کردے گا۔

امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات میں پاکستان کا اہم کردار پایا جاتا ہے جسکا اعتراف امریکا بھی کرچکا ہے تو پھر کیا پاکستان کو امریکی چال کا علم نہیں؟

پاکستان کو امریکی چال کا باخوبی علم ہے مگر اس چال سے پاکستان کا بھی ایک فائدہ ہے اور وہ یہ کہ دنیا کی ںظروں میں پاکستان افغانستان مین قیام امن کے لیے ابھر کر سامنے آگیا ہے، اور حقیقت میں بھی ایسا ہی ہے۔

پر امن اور مستحکم افغانستان پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور پاکستانی پالیسی کے مطابق پاکستان وہ ہر کوشش میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے جس کے ذریعے افغانستان میں خون ریزی بند ہوسکے، اب اگر امریکا منافقت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے تو اس میں پاکستان کا کوئی قصور نہیں۔

امریکا اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کرانے میں پاکستان کو ایک اور فائدہ یہ بھی حاصل ہوا ہے کہ امریکا نے ’’فی الحال‘‘ پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ بند کر رکھا ہے لیکن یاد رکھیں کہ امریکی چال مکمل ہونے کے بعد امریکا پھر سے ڈو مور کا مطالبہ پاکستان سے کرے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں کی نصف تعداد کو واپس بلالیا جائے گا تاہم ایسا ممکن نظر نہیں آرہا کیونکہ افغانستان میں موجود امریکی افواج کی قیادت واضح طور پر کہہ چکی ہے کہ انہیں اس قسم کے کوئی احکامات نہیں ملے۔

افغانستان سے امریکی فوجیوں کی عدم انخلاء کی ایک اور وجہ ایران بھی ہے، امریکا نے اس وقت چاروں طرف سے ایران کو اپنی فوج کے ذریعے گھیرے میں لے رکھا ہے اور جنگی جنون میں مبتلا ڈونلڈ ٹرمپ اس مضبوط گھیرے کو کم کرنے والوں میں سے نہیں، ٹرمپ کا بس چلے تو وہ آج ہی ایران کے خلاف جنگ کا اعلان کردیں۔

افغان طالبان بھی امریکی چال سے باخوبی واقف ہے اور وہ بھی ٹائم گیننگ کے حربے کو استعمال کرتے ہوئے مضبوط ہوتی جارہی ہے تبھی تو مذاکرات کے باوجود طالبان کی کارروائیاں جاری ہیں۔

آخر میں امریکا اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا سب سے زیادہ نقصان امریکا کوہی ہوگا، امریکا گزشتہ اٹھارہ سالوں میں افغان طالبان کو ختم نہ کرسکی اور آئیندہ اٹھارہ سالوں میں بھی ختم نہیں کرپائے گی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *