بھارت پاکستان کے خلاف ’’سبزیکل اسٹرائک‘‘ کے علاوہ اور کچھ نہیں کرسکتا

مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں کم و پیش 46 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد تمام پاکستانیون کو اس بات کا یقین تھا کہ بھارت حملے کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے جنگ کی دھمکی ضرور دے گا۔

بھارت اور بالخصوص مودی سرکار کے حوالے سے پاکستانیوں کی تمام تر توقعات بجا ثابت ہوئیں، گجرات کے قصاب کے نام سے مشہور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے نا صرف پلوامہ حملے کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھرایا بلکہ جنگ کی دھمکی دیتے ہوئے پاکستان کو کڑی سزا دینے کا بھی اعلان کیا ہے جس کے لیے مودی نے بھارتی افواج کو فری ہینڈ بھی دے دیا ہے۔

ادھر پاکستان میں عوام کی بھارتی دھمکیوں کے حوالے سے عدم سنجیدگی قابل دید ہونے کے ساتھ ساتھ حیران کن بھی ہے جس کا عملی مظاہرہ سوشل میڈیا پر دلچسپ انداز میں کیا جارہا ہے۔

پاکستانی عوام سوشل میڈیا پر بھارت اور مودی سرکار کا اس قدر مذاق اُڑارہی ہے جس کا کوئی حساب ہی نہیں، اور کیوں نہ اُڑائے جبکہ بھارت نفرت اور بدلے کی آگ میں بچکانہ حرکتوں پر اُتر آیا ہے۔

بھارتیوں نے گزشتہ دنوں پاکستان کے لیے ٹماٹر کی برآمدات کو روک لیا ہے، بھارتی کہہ رہے ہیں کہ پاکستانی لال ٹماٹروں کے لیے ترسییں گے، پاکستانی ہمارے ٹماٹر کھاکے ہمارے ہی نوجوانوں کو مار رہے ہیں اب پاکستان کو بھارت سے ٹماٹر نہیں ملیں گے۔


مزید پڑھیں

کلبھوشن یادیو کیس، متوقع فیصلہ اور تجزیہ


بھارت کی جانب سے اس ’’ٹماٹو وار‘‘ پر زندہ دل پاکستانی بھارت سے استفسار کررہے ہیں کہ کیا ہم آپ کے ٹماٹروں پر زندگی بسر کررہے ہیں؟

بھارت کی جانب سے جنگ کی دھمکی پر پاکستان میں آباد مچھروں کو بھی خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ نریندر مودی نے دھمکی حقیقی معنوں میں جنگ لڑنے کے لیے نہیں بلکہ رواں سال بھارت میں ہونے والے عام انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے دی ہے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاکستان کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان بھارت کا ہی ہوگا۔

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت میں مذہبی ووٹ بینک ایک انتہائی حساس معاملہ ہے، بھارت میں اگر انتخابات میں کامیابی حاصل کرنی ہو تو اس کا سب سے آسان طریقہ اسلام اور پاکستان کے خلاف بد زبانی اور الزام تراشیاں ہیں جوکہ مودی اور ان کے انتہا پسند ساتھی کررہے ہیں۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے بقول جنگ کی شروعات اگرچہ انسان کے ہاتھ میں ہے تاہم جنگ کو ختم کرنا انسان کے بس کی بات نہیں، بھارت تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت کے طور پر گزشتہ کئی سالوں سے ابھر کر سامنے آیا ہے اور بھارتی ہرگز آمادہ نہیں کہ اس تیزی میں جنگ کے باعث سست روی واقع ہو یا پھر بھارت کی ترقی تنزلی میں بدل جائے۔

بھارت میں رہنے والے سمجھدار اور سنجیدہ حضرات جیسا کہ بھارت کے سابق چیف جسٹس مرکنڈے کاٹجو نے بھارت کی جنگ پر تلی ہوئی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ پاکستان ایٹمی طاقت ہے، جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

مرکنڈے کاٹجو کا کہنا تھا کہ پاکستان جوہری طاقت ہے، کوئی مذاق نہیں، اگر بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول کراس کی تو پاکستان کی فوج بھی تیار بیٹھی ہے، بھارت کو منہ توڑ جواب ملے گا۔


مزید پڑھیں

کیا امریکا اور افغان طالبان کے درمیان امن معاہدہ ہوپائے گا؟


اس سے بڑھ کر مودی کے لیے اور کوئی رسوائی نہیں کہ خود بھارتی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان بھارت کے کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دے سکتا ہے۔

بھارت زیادہ سے زیادہ سفارت سطح پر پاکستانی ساکھ کو متاثر کرنے کی  کوشش کر سکتا  ہے اور کر بھی رہا ہے، لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ بھارت اس ضمن میں ہونے والی اب تک کی تمام تر کوششون میں ناکام ہوچکا ہے خواہ یہ کوشش اقوام متحدہ میں ہو، کرکٹ کے میدان میں ہو یا پھر اولمپکس کے، ہر جگہ سے مودی اور بھارتی حکومت کو طمانچے رسید ہورہے ہیں۔

اس حقیقت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ امریکا نے بھی پاکستان کے خلاف بھارتی الزامات کی حمایت نہیں کی، حتیٰ کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک کے درمیان اختلافات بات چیت کے ذریعے ختم کرنے پر زور دیا ہے۔

اس وقت پاکستان کے خلاف بھارت تن و تنہا  کھڑا ہے، کسی بھی ملک نے بھارتی موقف کو تسلیم  کرتے ہوئے پاکستان پر بے بنیاد الزام تراشیوں کو قبول نہیں کیا جس کے بعد عالمی برادری کے سامنے بھارت کافی حد تک کمزور دکھائی دے رہا ہے۔

پاک بھارت جنگ کے عدم امکان کی ایک اور اہم وجہ دونون ممالک کا ایٹمی طاقت ہونا ہے، عالمی برادری اور دنیا کے بڑے ممالک کبھی نہیں چاہیں گے کہ ایٹمی طاقت کے حامل دو ممالک کے درمیان جنگ شروع ہوجائے کیونکہ ایسی جنگ عالمی جنگ میں بدل جائے گی جو پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہوگی۔


مزید پڑھیں

ایران میں حملے کون اور کیوں کررہا ہے؟


زندہ دلان پاکستان جہاں بھارتیوں کا مذاق اُڑارہے ہیں وہیں افواج پاکستان نے بھی بھارت کو کسی بھی حماقت سے خبردار کرتے ہوئے بتا دیا ہے کہ پاکستانی فوج ملک کے دفاع کے لیے تیار ہے، اور قابل غور بات یہ ہے کہ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بھارتیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بار پاک فوج کا کسی بھی حملے کا جواب مختلف ہوگا۔

اب اللہ جانے یہ جواب کیسا ہوگا لیکن فی الحال پاکستان سے اُڑ کر بھارت جانے والے کبوتروں سے خوفزدہ ہونے والے بھارتی فوجیوں کے ہوش ٹھکانے لانے کے لیے میجر جنرل آصف غفور کا اتنا ہی کہنا کافی ہے۔

فی الحال پاکستانی عوام پی ایس ایل کو انجوائے کریں کیونکہ بھارت ’’ٹماٹو وار‘‘ یا پھر ’’سبزیکل اسٹرائک‘‘ کے علاوہ اور کچھ نہیں کرسکتا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *