آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا ارادہ ہے، ٹرانس جینڈر ایڈووکیٹ نشاء راؤ

کراچی: اپنی شناخت اور خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے پر عزم نشاء راؤ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قانون میں ہر طبقے کے لیے قوانین موجود ہیں، تاہم تمام سیاسی جماعتوں کے منشور پڑھےلیکن  کسی کے منشور میں خواجہ سراؤں پر ایک لائن بھی موجود نہیں ہے۔

لاہور میں پیدا ہونے والی نشاء راؤ نے 2009 میں اپنی شناخت کے حصول، کراچی میں سمندر کی لہروں کو آزادانہ چھونے کی خواہش اور معاشرتی جبر سے تنگ آ کر پیار کرنے والے والدین اور اپنے گھر کو چھوڑ دیا تھا، کراچی میں زندگی کی سختیوں اور تلخیوں کو جھیلتی نشاء نے گداگری بھی کی اور فٹ پاتھ پر سوئی بھی، نشاء نے پولیس والوں سے مار بھی کھائی اور بگڑے رئیس زادوں کے غیر اخلاقی رویے بھی برداشت کیے، تاہم اچھے دوستوں کے مشورے سے انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے بی اے کا امتحان پاس کیا اور 2015 میں سندھ مسلم لاء کالج میں داخلہ لیا اورجنوری 2019 میں فائنل  ایگزام دیے اب نتیجے کا انتظار ہے جو اپریل کے مہینے میں متوقع ہے۔

نشاء راؤ کا کہنا ہے کہ ہم لوگ اپنی شناخت کے کرائسز سے گزرنے والے لوگ اس معاشرے کا سب سے پسا ہوا طبقہ ہیں، تاہم تعلیم ہمیں شعور دینے میں کامیاب ہے، ہمارے کچھ ساتھی صرف آسان زندگی کے حصول کے لیے غلط راستے چن لیتے ہیں، جن کی وجہ سے پھر تمام خواجہ سراؤں کو مصائب برداشت کرنے پڑتے ہیں۔


مزید پڑھیں

ساتھیوں پر تشدد کے خلاف خواجہ سرا سڑکوں پر آ گئے


ان کا کہنا تھا کہ قانون کی تعلیم حاصل کرنے کا مقصد اس ملک میں اپنے حقوق کی جنگ لڑنا ہے، ان کا کہنا تھا کہ قانون کی تعلیم کے دوران انہوں نے قانون و آئین کا تفصیلی مطالعہ کیا، ہمارے آئین میں ہر طبقے کے حقوق کی تفصیل درج ہے، بس ہمیں معاشرے سے ان کو قبول کروانا ہے۔

نشاء کا کہنا تھا کہ خواجہ سراؤں کو مردانہ نام رکھنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، گو کہ میری تعلیمی دستاویزات میں میرا نام ابھی تک مردانہ ہے، تاہم ہم لوگوں کو اپنی مرضی کا نام چننے کا اختیار ہونا چاہیے اور اسی مقصد کے حصول کے لیے وہ جدوجہد کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

نشاء کا کہنا تھا کہ ان کی دوسری قانونی جدوجہد پبلک ٹرانسپورٹ میں سیٹیں مختص کروانا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ہماری شناخت کی بناء پر ہمیں نا مناسب رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے ہم پبلک ٹرانسپورٹ کی بجائے ٹیکسی یا رکشوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں، جو ہمارے لیے کافی مہنگا ثابت ہوتا ہے، میں اپنی جنس کو یہ حق دلوانا چاہتی ہوں کہ عورتوں والے کمپارٹمنٹ میں ممکن نہیں تو مردوں والے حصے میں دو نشستیں خواجہ سراؤں کے لیے مخصوص کی جائیں۔


مزید پڑھیں

مردان اور ایبٹ آباد میں خواتین کے لیے پِنک بس سروس پر پیشرفت


نشاء کا یہ بھی کہنا تھا کہ خواجہ سراؤں میں ایڈز اور ایچ آئی وی کا بڑھتا ہوا رجحان انتہائی خوفناک ہے، جو ایک طرف معاشرتی نا ہمواری کو آشکار کرتا ہے، دوسری جانب خود خواجہ سراؤں کی غلط ترجیحات کی نشاندہی ہے، انہوں نے بتایا کہ دس ہزار خواجہ سراؤں کے ایک طبی سروے میں یہ خوفناک انکشاف سامنے آیا تھا کہ ان میں سے 50 فیصد خواجہ سرا ایچ آئی وی پازیٹیو ہیں۔

نشاء نے حکومت پاکستان سے اپیل کی ہے کہ سرکاری محکموں میں اور بڑی کارپوریشنز میں ٹرانس جینڈرز کے لیے سیٹیں مختص کی جائیں، اگر ہم تعلیم حاصل کر سکتی ہیں تو ڈاکٹر اور انجنیئر اور ایئر ہوسٹس بھی بن سکتی ہیں، حکومت پاکستان کو چاہیئے کہ ہماری صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *