بھارت کے بڑے بھی مودی کے خلاف بول پڑے، پلوامہ حملے کو سازش قرار دے دیا

نئی دہلی: معروف بھارتی رہنما ومن وشرام کے بعد بال ٹھاکرے کے بیٹے  راج ٹھاکرے نے بھی پلوامہ حملے کو مودی حکومت کی سوچی سمجھی سازش قرار دے دیا۔

بھارت کے معروف سماجی رہنما ومن وشرام نے کہا ہے کہ پلوامہ حملہ مودی سرکار کا اپنا کروایا گیا ہے، مودی حکومت کو حملے سے 8 روز قبل حملے کی اطلاع موصول ہو چکی تھی، اس کے باوجود حکومت نے ہمارے نوجوانوں کو حملے کا شکار ہونے دیا، ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں نے کہا تھا کہ ان کو کشمیر ایئر لفٹ کیا جائے لیکن ان کو جان بوجھ کر زمینی راستے سے بھیجا گیا، تا کہ ان پر حملہ ہو اور اس کا الزام پاکستان کے سر ڈالا جائے۔

ومن وشرام کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس انٹیلی جنس رپورٹ موجود تھی کہ ان نوجوانوں کو مار دیا جائے گا لیکن حکومت نے اپنے مفادات کے لیے ان کو مرنے دیا۔


مزید پڑھیں

بوکھلاہٹ کی شکار بھارتی حکومت نے پاکستان آرمی کے ترجمان کی پریس کانفرنس نشر کرنے پر 13 نیوز چینلز کو نوٹس جاری کردیے


دوسری جانب انتہاپسند ہندو  تنظیم ایم این ایس کے سربراہ راج ٹھاکرے نے بھی پلوامہ حملے پر سوالات اٹھا دیے، ان کا کہنا تھا کہ پلوامہ حملے میں مارے گئے فوجی سیاست کا نشانہ بنے۔

مہاراشٹرا میں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے راج ٹھاکرے کا کہنا تھا کہ نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوول سے تحقیقات کی جائیں تو پلوامہ حملے کی حقیقت سامنے آجائے گی۔

ہندو انتہا پسند تنظیم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پلوامہ حملے میں مارے گئے فوجی سیاسی متاثرین ہیں، حکومتیں سیاسی مقاصد کیے لیے ایسے کام کرتی ہیں لیکن مودی حکومت میں ایسے واقعات میں اضافہ ہوا۔


مزید پڑھیں

بھارت کے متعصبانہ رویے کے باعث ایشین اسنوکر ایونٹ منسوخ کردیا گیا


راج ٹھاکرے نے اپنے ہی وزیراعظم مودی پر الزام لگایا کہ جب پلوامہ حملے کی خبر آئی تو مودی ایک فلم کی شوٹنگ میں مصروف تھے اور خبر ملنے کے باوجود بھی شوٹنگ میں ہی مصروف رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت نے انتخابات سے پہلے رافیل ڈیل اور دیگر بد عنوانیوں سےعوام کا دھیان ہٹانے کے لیے حملہ کرایا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *