آئس نشہ کیا ہے؟ اور اس قدر خطرناک کیوں ہے؟

کرسٹل میتھ یا پھر آئس کے نام سے مشہور ذرہ نما نشہ آور پاؤڈر کچھ عرصے سے پاکستان کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ میں خوفناک حد تک پھیلتا جارہا ہے۔

کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت ملک کے بڑے شہروں میں آئس نے خطرے کی گھنٹی تو بجادی ہے مگر متعقلہ اداروں کو اس آفت پر قابو پانے میں کافی مشکلات پیش آرہی ہیں۔

آئس کی روک تھام میں سب  سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ اس نشے کو کوئی بھی شخص انتہائی آسانی سے کسی بھی جگہ مثلا باورچی خانہ، گیریج یا پھر عام سے کمرے میں تیار کرسکتا ہے۔


مزید پڑھیں

3 لڑکیوں سمیت آئس نشہ فروخت کرنے والے 6 افراد گرفتار


تاہم تیاری کے مراحل میں کسی بھی قسم کی غلطی زوردار دھماکے کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔

آئس کی تیاری میں استعمال ہونے والے مخصوص کیمیکلز با آسانی مل جاتے ہیں اور یہ اجزاء پاکستان بھر میں دستیاب ہونے کے ساتھ ساتھ ایسے ہیں جن پر پابندی عائد نہیں اور نا ہی کی جاسکتی ہے۔

آئس کی روک تھام میں ایک اور رکاوٹ یہ بھی ہے کہ اس کی فروخت روایتی انداز میں نہیں کی جاتی۔

کرسٹل میتھ کی فروخت میں سوشل پلیٹ فارمز کا استعمال ہوتا ہے اور آرڈر ملنے پر ڈیلر ہوم ڈیلیوری کے ذریعے گھر گھر سپلائی کرتے ہیں۔

آئس کے عادی افراد 4 طریقوں سے اسے استعمال کرتے ہیں جن میں سموکنگ، انجیکٹنگ، سنارنگ اور اینجسٹنگ شامل ہیں۔

کرسٹل میتھ یا پھر آئس کے اثرات دیگر قسم کی منشیات سے قدرے مختلف پائے جاتے ہیں تاہم یہ سب آپ کو موت کی دہلیز پر لا کھڑا کردیتے ہیں۔


مزید پڑھیں

خیبرپختونخوا میں آئس بنانے والے کو سزائے موت دینے کی تجویز


نیند اُڑانا، طاقت دلانا اور خوشی یا نصرت کے جذبات محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ جارحانہ رویے میں اضافہ کرسٹل میتھ کے استعمال کے فی الفور اثرات میں شامل ہیں۔

طویل المدتی اثرات میں فشار خون میں اضافہ، ہارٹ اٹیک، دماغ میں خرابی، یادداشت میں خرابی اور موت شامل ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *