اسکولز، مونیٹسریز، کالجز اور ٹیوشن سینٹرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ

کراچی: والدین سے تعلیم کے نام پر ہزاروں کی مد میں فیسیں بٹورنے والے تعلیمی اداروں کو حکومت نے ٹیکس نیٹ میں ڈالنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے فیصلہ کیا ہے کہ اب وہ تعلیمی ادارے جو آج تک ٹیکس ادا نہیں کررہے تھے، وہ بھی ٹیکس نیٹ میں لائے جائیں گے۔

اس ضمن میں شہر بھر میں قائم اسکول، مونیٹسری، کالجز اور ٹیوشن سینٹرز کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا۔


مزید پڑھیں

ایف بی آر کی جانب سے ملک میں مزید ٹیکس دفاتر قائم کرنے کا فیصلہ


براڈنگ آف ٹیکس نیٹ کے تحت اسپیشل ٹیمیں غیر رجسٹرڈ اسکولوں پر چھاپے ماریں گی۔

کراچی میں چیف کمشنر کی ہدایت پر شہر بھر میں غیر رجسٹرڈ اداروں کے لیے آگاہی مہم بھی چلائی جائے گی اور غیر رجسٹرڈ اسکولوں کو بھی اب ٹیکس دینا ہی ہوگا۔

کچھ عرصہ قبل نجی اسکولوں کی فیسوں کے حوالے سے عدالتی حکم کی وضاحت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ پانچ ہزار سے زائد فیس لینے والے اسکولوں کو بیس فی صد کمی کرنی پڑے گی۔


مزید پڑھیں

کس نے کتنا ٹیکس ادا کیا؟ ٹیکس ڈائیریکٹری 2017 جاری


یاد رہے کہ اسی مقدمے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے حکم کے بعد کراچی ،لاہور اور سکھر میں ایف آئی اے نے کارروائی کرتے ہوئے متعدد اسکولوں پر چھاپے مار کر ریکارڈ تحویل میں لے لیا تھا، جبکہ 22 بڑے نجی اسکولوں سے متعلق مراسلہ بھی جاری کیا گیا تھا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *