حکومت گستاخانہ مواد کی اشاعت روکنے کے لیے اقدامات کرے، اسلام آباد ہائی کورٹ

اسلام آباد: ہائی کورٹ نے حکومت کو گستاخانہ مواد کی اشاعت روکنے کےلیے اقدامات کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے عدالتِ عالیہ نے پیر کو سنایا۔


مزید پڑھیں

دہشتگرد تنظیموں کے اثاثہ جات منجمند کرنے کے 2019 کے احکامات پر عملدرآمد شروع کردیا، دفتر خارجہ


عدالت نے درخواست گزار کی ہالینڈ سے سفارتی و اقتصادی تعلقات منقطع کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے حکومت کو گستاخانہ مواد سے متعلق ماضی کے عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنائے، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) گستاخانہ مواد کے خلاف ایک جامع ضابطہ کار وضع کرے۔


مزید پڑھیں

اسکولز، مونیٹسریز، کالجز اور ٹیوشن سینٹرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ


عدالت نے حکم دیا کہ گستاخانہ مواد والی ویب سائٹس اور پیجز کی نشاندہی کی جائے اور مواد کی نشاندہی کے بعد ویب سائٹس کے خلاف بلا تاخیر کارروائی کی جائے، گستاخانہ اور فحش مواد کے سنگین فوجداری نتائج سے عوام کو آگاہ کرنے کا سائنسی طریقہ کار وضع کیا جائے اور مستقبل میں ایسے گستاخانہ مواد کی اشاعت روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *